Tuesday, October 30, 2018

میندورہ ترال میں خونریز معرکہ آرائی


قابض بھارتی فوج کے متعدد اہلکار واصل جہنم اور کئی اہلکار زخمی 

13 گھنٹے قابض بھارتی فوج اور دیگر فورسز کو ناکوں چنے چبوانے کے بعد جیش محمد کے امیر مولانا مسعود اظہر کے بھتیجے جیش محمد کے مایہ ناز کمانڈر عثمان ابراہیم اپنے ایک ساتھی شوکت احمد کے ہمراہ جام شہادت نوش فرما گئے.
آج صبح فجر کے وقت قابض بھارتی فوج کی 42RR   180CRPF. اور DOG نے ضلع پلوامہ تحصیل ترال کے علاقے میندورہ کے گاؤں چانکی تار کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کیا، بھارت فورسز کے اہلکار جب اس گھر کی تلاشی لینے اندر داخل ہوئے جس میں مجاہدین مورچہ زن تھے، تب مجاہدین نے ان پر فائر کھول دیا جس سے کئی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔
مجاہدین پورا دن ڈٹ کر قابض فورسز کا مقابلہ کرتے رہے. جب بھی فورسز اہلکار مکان کے قریب آنے کی کوشش کرتے مجاہدین انھیں اپنی گولیوں کا نشانہ بناتے اس طرح مجاہدین نے دشمن کو پورا دن تگنی کا ناچ نچائے رکھا، اور مکان تک رسائی کی دشمن کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا۔ شام کے وقت اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قابض بزدل فوج نے مکان کو آگ لگائی اور بعدازاں بارود لگا کر اڑا دیا۔ جس سے دو مجاہد اللہ کی جنت کے مہمان بن گئے۔(ان شآءاللہ)
ذرائع سے آمدہ اطلاعات کے مطابق اس جھڑپ میں دو آفیسرز سمیت 12 اہلکار جہنم واصل ہوئے اور کئی درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جن کو جائے معرکہ سے ہیلی کے ذریعے اٹھایا جاتا رہا۔
اس جھڑپ میں  جام شہادت نوش کرنے والوں میں ایک
جیش محمد کے امیر مولانا مسعود اظہر کے بھتیجے اور جیش محمد کے مایہ ناز کمانڈر عثمان ابراہیم ہیں. جو عرصہ دراز سے کشمیر میں برسر پیکار تھے سنائپر کاروائیوں کے ہیرو سمجھے جاتے تھے. اپنی متعدد کاروائیوں میں درجنوں قابض فوجیوں کو واصل جہنم کر چکے تھے. ان سنائپر کاروائیوں کی دشمن پر ایسی دھاک بیٹھائی کہ بھارتی آرمی چیف کی بھی چیخیں نکال دیں
جام شہادت نوش کرنے والے دوسرے مجاہد شوکت احمد چند ماہ قبل شہید ہونے والے آری پل ترال کے اشفاق احمد شہید کے چھوٹے بھائی تھے. جہاد کشمیر میں ان کے گھرانے کی لازوال قربانیاں اہل کشمیر کے لئے قابل رشک ہیں۔

No comments:

Post a Comment