پلوامہ حملے کے بعد مقبوضہ ریاست میں ہندوستانی قابض افواج سے عسکری محاذ پر نبردآزما کشمیری تنظیمات کے مشترکہ فورم متحدہ جہاد کونسل جموں کشمیر کے چیئرمین اور امیر حزب الجماہدین سید صلاح الدین احمد نے دنیا سے بڑا مطالبہ کردیا
x
14 فروری مقبوضہ جموں کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک کشمیری نوجوان عادل احمد ڈار کے بھارتی قابض افواج پر خودکش حملے کے بعد بھارتی افواج سے برسرپیکار کشمیری مجاہدین تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل جموں کشمیر کے چیئرمین اور امیر حزب المجاہدین سید صلاح الدین احمد نے پہلی بار سوشل میڈیاء پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں سید صلاح الدین کا کہناتھا کے 14 فروری کو ایک مقامی کشمیری نوجوان نے فدائی حملہ کرکے پچاس بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا، اس مجاہد نے عسکری کاروائی میں جو مواد استعمال کیا وہ بھی مقامی طور تیار کیا گیا تھا، یہ ساری کاروائی مقامی کاروائی تھی، بد قسمتی سے مودی سرکاد نے حسب عادت اس کاروائی کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا۔ بجائے اس کے کے پاکستانی ارباب اقتدار ایک جارحانہ اور جاندار مؤقف اختیار کرتے اود دنیا پر یہ واضع کرتے کہ یہ کاروائی مقامی کشمیری نوجوان نے کی ہے اس کا بنیادی سبب بھارتی مظالم اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی ہے اور یہ کاروائی عالمی طاقتوں کیلیئے چشم کشاء ہونی چاہئیے جب تک وہ خاموش رہیں گے اور بھارتی مظالم جاری رہیں گے تو کشمیر کا ہر بوڑھا بچہ فدائی بننے پر مجبور ہے اس کے برعکس پاکستان کے ارباب اقتدار نے جو معزرت خواہانہ اور مبہم دفاعی پوزیشن اختیار کی اس کی وجہ سے تحریک آزادی کی پیش رفت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔ ہم یہ واضع کرنا چاہتے ہیں کے مملکت خداداد پاکستان مسئلہ کشمیر کا بنیادی فریق ہے قانونی اور اخلاقی لحاظ سےمملکت خداداد اس بات کی مکلف ہے کے وہ کشمیر میں برسرپیکار نہتے کشمیریوں کی ٹھوس، اخلاقی اور سفارتی مدد کرے۔ اور ہر قسم کی قابل دید مدد کرے، ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کے دہشت گردی کے نام پر کشمیری کاز کی حمایت کرنے والوں پر کریک ڈاؤن نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ تحریک آزادئ کشمیر عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ تحریک ہے ارباب اقتدار پاکستان نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے وقت اس بات کو ملحوظ نظر رکھیں کہ رواں جدوجہد آزادئ کشمیر سوا پانچ لاکھ فرزندان وطن کے خون سے سینچی ہوئی تحریک ہے اس کو دہشتگردی سے نہیں جوڑا نہیں جاسکتا۔ اور یہ بات بھی ہم واضع کرنا چاہتے ہیں کہ جب تک نہتے کشمیریوں کو اپنا بنیادی حق حق خودارادیت نہیں ملتا تب تک یہ جدوجہد آزادی جنت ارضی کے چپے چپے پر جاری رہیں گی۔ عالمی برادری بھی اخلاقاً اور عالمی قوانین کے تحت اس بات کی پابند ہے کے وہ ہندوستان کو اس بات پر مجبور کریں کے وہ کشمیریوں کے بنیادی حق کو تسلیم کرے اور کشمیریوں کوآپنے مقدر کا فیصلہ کرنے کا موقع دے پاکستان کے اربابِ اقتدار سے ہماری گزارش ہے کہ وہ معزرت خواہانہ اور دفاعی طرز عمل چھوڑ کر ایک جاندار اور ایک جارحانہ مؤقف کو اختیار کرکے عالمی سطح پر بھرپور سفارتی مہم جوئی کے زریعے بھارت کے مظالم کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی فقیدالمثال قربانیوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کرے۔ ہم اس موقع پر یہ بھی عرض کرنا چاہتے ہیں کے خدانخواستہ اگر پاکستان نے تحریک آزادئ کشمیر کے تئیں اپنا فریضہ انجام نہیں دیا بلکے عالمی دباؤ میں آکر نہتے کشمیریوں کی قربانیوں پر سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی تویہ ایک بہت بڑا تاریخی المیہ ہوگا اور خود پاکستان کی قومی سلامتی کے جو تقاضے ہیں وہ بھی کمپرومائز ہوں گے ہم پرامید ہیں کے عالمی برادری نہتے کشمیریوں کے ساتھ آپنا وعدہ پورا کرے گی۔ اور بیس کیمپ کے ارباب اقتدار مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق ہونے کی حیثیت سے آپنی زمہ داریوں کو پورا کرنے کی بھرپورکوشش کریں گے وماعلیناالالبلاغ،