Wednesday, November 14, 2018

بھارتی فوج کشمیری نوجوانوں کو مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونے سے روکنا چاہتی ہے: بھارتی آرمی چیف بپن راوت

مقبوضہ کشمیر قابض بھارتی فوج کے سربراہ بپن راوت نے سوموار کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کی پالیسی کشمیر کے اندر مجاہدین کا خاتمہ کرنا ہے اور قابض فوج اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کررہی ہے کہ کشمیری نوجوان مجاہدین کی طرف راغب نہ ہوں۔ بپن راوت نے کہا کہ جموں کشمیر میں کنٹرول لائن سے دراندازی کا سلسلہ جاری ہے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے بپن راوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا''حکومت کی واضح پالیسی ہے کہ جنگجوئوں کو تشدد بھڑکانے کا موقع نہ دیا جائے۔ایسا کرنے والے کو ختم کیا جائے گا''۔بپن راوت پٹھانکوٹ میں ایک تقریب کے بعد نامہ نگاروں سے بات کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا''کشمیر میں  ہماری ساری توجہ مجاہدین پر مرکوز ہے۔قابض فوج کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ نوجوان مجاہدین  کی صف میں شامل نہ ہوں''۔بپن راوت نے کہا کہ قابض فوج نوجوانوں کو موقع فراہم کرتے ہوئے اُنہیں سرنڈر کرانے کی کوشش کرتی ہے اور اس کے لئے متعلقہ گھر والوں کی بھی مدد لی جاتی ہے تانکہ وہ نوجوانوں کو سرنڈر کے لئے راضی کریں۔ انہوں نے کہا''اس کے باوجود اگر وہ مجاہدین تشدد ترک نہیں کرتے تو پھر اُنہیں ختم کرنے کے بغیر کوئی آپشن نہیں رہتا ہے''۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا بھارت پاکستان کی طرف بدلے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کی وجہ سے کئی ہلاکتیں ہوئی ہیں، فوجی سربراہ نے کہا کہ پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ''انہوں نے کہا''دیکھئیے ہمیں پالیسیاں تبدیل کرنی پڑتی ہیں۔ہم کچھ مختلف کررہے ہیں۔ہم غالب رہنے کے لئے پالیسیوں کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ اس کو محض بدلے کی پالیسی کی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئیے ''۔ بپن راوت نے کہا کہ قابض بھارتی فوج جو کچھ کنٹرول لائن پر کررہی ہے اُس کو پبلک ڈومین میں نہیں لایا جاتا اور وہ پاکستانی افواج سے زیادہ کرتی ہے۔ ''ہم شور مچانا نہیں چاہتے۔ جب بھی وہ(پاکستانی افواج) کچھ کرتی ہیں تو اُس کا مُنہ توڑ جواب دیا جاتا ہے۔جب بھی وہاں سے کچھ کیا جاتا ہے وہ رد عمل ہوتا ہے۔ وہ آغاز نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہم اُن سے کئی گنا مضبوط ہیں ''۔ انہوں نے مزید کہا'' کشمیری ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ ہمیں اُن کی رکھوالی کرنی ہے۔جموں، کشمیر اور لداخ کے خطے ملک کا حصہ ہیں اور وہاں تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی''۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس بھی سنائپر ہیں اور بھارت کے پاس بھی۔ہماری کوشش ہے کہ اُنہیں کوئی موقع نہ دیں۔مذاکرات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بپن راوت نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی لوگوں کے ساتھ بات چیت کا آغاز کر رکھا ہے۔

Thursday, November 8, 2018

IOK authorities start recruitment for border battalions

Jammu, November 09 (KMS): In occupied Kashmir, the authorities have started the process of recruitment for 2014 posts in border battalions.

The Home Department of the occupied territory in consultation with Police Head Quarters (PHQ) formulated a proposal to raise two border battalions of police which was forwarded to the Indian Ministry of Home Affairs.

As per an order of the authorities, the recruitment for the posts should be strictly from the youth living in the areas of 0-10 km from Working Boundary (WB), Line of Control (LoC), Actual Ground Position Line (AGPL) and Line of Actual Control (LAC) and should also be equally divided amongst the 10 border districts of occupied Kashmir.

The criteria may be relaxed for Leh and Kargil if sufficient youth are not available from 0-10 km of LoC/AGPL/LAC.

Wednesday, November 7, 2018

CASO underway in South Kashmir's Aarihal area of District Pulwama, reportedly clashes erupted

Protest march in France against Indian brutalities in IOK


Paris, November 08 (KMS): A protest march organized by Jammu and Kashmir Forum France was held at Eiffel Tower in France to condemn brutalities of India against Kashmiri people in occupied Kashmir.

A large number of community members from Azad and occupied Kashmir and Pakistan participated in the march. PPP Europe President Dr Irshad Ali Kambooh participated in the programme as special guest.

Addressing the protesters, speakers including Raja Ali Asghar, Chaudhry Razaq Dhal, Abdul Qadeer and Chaudhry Afzal Langah said that even women and children were not safe from Indian forces’ aggression in occupied Kashmir. They said that India had no justification to illegally hold Jammu and Kashmir against the wishes of its people.

Wednesday, October 31, 2018

*تحریک آزادی جموں کشمیر*
🍁🍁🍁🍁🍁🍁

ان کی جرات کے فسانے ہیں دل ِ اغیار تک
ان کی نظروں کی رسائی ہے افق کے پار تک
ان کی تدبیروں میں ہیں تقدیر کے آثار تک
میرے رب تیری رضا کے رازدانوں کو سلام

🔘کمانڈر عثمان ابراہیم شہیدؒ
🗓تاریخ شہادت: 30اکتوبر2018

🔺مقام شہادت: میندورہ ضلع ترال

Tuesday, October 30, 2018

*تحریک آزادی جموں کشمیر*
🍁🍁🍁🍁🍁🍁

ترال معرکے کی لائیو ویڈیو جس میں صاف نظر آرہا ہے کہ قابض بھارتی فورسز بارود کا آزادنہ استعمال کررہی ہیں


کشمیر میں 'کشیدگی'چوٹی پر پہنچتی ہے: جے آر ایل

کشمیر میں 'کشیدگی'چوٹی پر پہنچتی ہے: جے آر ایل


سرینگر
 سید علی گییلانی، مشترکہ مزاحمت کی قیادت (جے ایل ایل) کے سید عمر گیلانی، میروازی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ان کی طویل گھر کی قید سے آزادانہ طور پر آزاد کردی اور پولیس حراست میں مزاحمت کے رہنما سید علی گیلانی کے رہائڈر ہائڈرپورا کے رہائشی اجلاس میں ایک اجلاس منعقد کی. کشمیر میں صورتحال

وسیع پیمانے پر خون سے محروم، نوجوانوں کی گرفتاری کی حوصلہ افزائی، مضبوطی کا نشانہ بناتے ہوئے، CASO کے دوران رہائشیوں کی ہلاکت اور کشمیر کی لمبائی اور چوڑائی میں وسیع پیمانے پر وسیع پیمانے پر بڑے پیمانے پر وسیع پیمانے پر وسیع پیمانے پر اور بھارتی پیشہ ورانہ فورسز کی طرف سے کشمیر کی حد تک نقصان پہنچے گا، JRL نے کہا کہ بھارتی فورسز کو تباہ کردیا گیا ہے جموں و کشمیر پر نئی دہلی کی طرف سے کشمیر کے لوگوں کے خلاف ایک ننگی جارحیت ہے جہاں نوجوانوں کو منتخب طور پر تباہ کن ڈیزائن کے تحت نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور نقصان پہنچے گا.

جے آر ایل نے کہا کہ دشمنی ایک مرحلے تک پہنچ گئی ہے جہاں یہ آبادی کے لئے ناقابل اعتماد بن گیا ہے جو اسے خاموشی سے برداشت نہیں کر سکتا. نئی دہلی کے ان ظالمانہ ڈیزائن کو شکست دینے کے لئے، جے آر ایل نے سوسائٹی کے تمام گروہوں کے ساتھ سیاسی تنظیموں، مذہبی تنظیموں، وکلاء، تاجروں، ٹرانسپورٹرز، ملازمین، اکیڈمیوں، سول سوسائٹیوں اور دوسروں کو وسیع مشورے کا فیصلہ کیا ہے. جامع مشترکہ حکمت عملی کو فریم کریں اور لوگوں سے پہلے پیش کریں.

جے آر ایل نے بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کے خلاف جرائم کے طور پر سی اے او دیگر پھل باغات سمیت افراد کو نقصان پہنچایا اور اس کے نقصان دہ افراد کو قتل کر دیا. جے آر ایل نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ دردناک کشیدگی کشمیر میں واقع ہونے والے واقعات کے سنجیدگی سے غور کریں. جے ایل ایل نے ان غیر قانونی کارروائیوں کی سختی سے انکار کرتے ہوئے کہا، کشمیر کے لوگوں، خاص طور پر جنوبی کشمیر میں رہنے والے افراد کو مکمل طور پر ہندوستانی افواج کی رحمت میں چھوڑ دیا گیا ہے، جنہوں نے عام شہریوں کو جہنم کی زندگی بنا دی ہے. کھیتوں اور باغوں کو فصلوں کا استعمال کرنے کے لئے باغ.

جے آر ایل نے کہا کہ یہ بہت بدقسمتی ہے کہ جو بھی قوتوں کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو بے وحشی تشدد یا دباؤ کے دیگر ذرائع کے ذریعہ خاموش ہو جاتا ہے. قیادت نے کہا کہ بھارتی فوج نے کشمیر کو ایک قتل کے میدان میں تبدیل کر دیا جہاں کہیں بھی کہیں بھی، کہیں بھی بھارتی فورسز کی طرف سے خواتین سمیت معصوم افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے.

جے آر ایل نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف بپن راٹ کے حالیہ بیان نے یونیفارم میں مردوں کو مزید حوصلہ افزائی کی ہے کہ کشمیر کے خلاف ظلم و ضبط کو فروغ دینے اور ان وحشتوں کے خلاف احتجاج کی آواز کو روکنے کے لئے وسیع پیمانے پر وینڈل ازم میں ملوث ہونے کے علاوہ.

جے آر ایل نے کہا کہ جب بھارتی فورسز نے غیر قانونی طور پر کشمیر کے عوام کے خلاف انسانی حقوق کے خلاف بدترین تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے تو، ہندوستانی الیکٹرانک میڈیا اس طرح کے رنگ میں کشمیر کی صورتحال کو فروغ دینے کے لئے کوئی پتھر نہیں چھوڑتا ہے جو کشمیر کے خلاف فورسز کی ظلم و ضبط کا ثبوت دیتا ہے.

جے آر ایل نے مزاحمت کی قیادت پر سختی کی مذمت کی ہے کہ اس بات کا اشارہ کیا گیا ہے کہ مزاحمت کے رہنماؤں کا زیادہ تر پی ایس اے کے زیر اہتمام کیا گیا ہے اور جے اینڈ کن ریاست کے باہر جیلوں میں داخل ہو چکا ہے، جس میں نئی ​​دہلی کے آمرانہ اور مستحکم نقطہ نظر کو ظاہر ہوتا ہے. اس کی فوجی طاقت کا ایک ننگا ڈسپلے. جے ایل ایل نے ان لوگوں کو بتایا جو پی ایس اے کے تحت ان کی اصطلاح مکمل کرتے ہیں، ان کی دوسری اور تیسری پی ایس اے کے ساتھ بھی ان کی غیر قانونی اور حراستی کو جاری رکھنے کے لۓ مارا جاتا ہے. کشمیر کے سیاسی قیدیوں کی تعداد ہر گزرنے کے دن میں بڑھ رہی ہے کیونکہ مقدمہ کے لئے متعلقہ محکموں سے پہلے بھی وہ تیار نہیں ہوتے ہیں.

جے آر ایل نے کہا کہ کشمیر بھر میں حتمی دشمنی کے خاتمے کے باوجود، مزاحمت کی قیادت اور کشمیر کے ہر شہری اپنے پیدائش کے حق پر عملدرآمد کرتے ہیں، خود مختاری کا حق اور اس کے لئے مسلسل جدوجہد تمام سطحوں پر جاری رہے گی.

میندورہ ترال میں خونریز معرکہ آرائی


قابض بھارتی فوج کے متعدد اہلکار واصل جہنم اور کئی اہلکار زخمی 

13 گھنٹے قابض بھارتی فوج اور دیگر فورسز کو ناکوں چنے چبوانے کے بعد جیش محمد کے امیر مولانا مسعود اظہر کے بھتیجے جیش محمد کے مایہ ناز کمانڈر عثمان ابراہیم اپنے ایک ساتھی شوکت احمد کے ہمراہ جام شہادت نوش فرما گئے.
آج صبح فجر کے وقت قابض بھارتی فوج کی 42RR   180CRPF. اور DOG نے ضلع پلوامہ تحصیل ترال کے علاقے میندورہ کے گاؤں چانکی تار کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کیا، بھارت فورسز کے اہلکار جب اس گھر کی تلاشی لینے اندر داخل ہوئے جس میں مجاہدین مورچہ زن تھے، تب مجاہدین نے ان پر فائر کھول دیا جس سے کئی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔
مجاہدین پورا دن ڈٹ کر قابض فورسز کا مقابلہ کرتے رہے. جب بھی فورسز اہلکار مکان کے قریب آنے کی کوشش کرتے مجاہدین انھیں اپنی گولیوں کا نشانہ بناتے اس طرح مجاہدین نے دشمن کو پورا دن تگنی کا ناچ نچائے رکھا، اور مکان تک رسائی کی دشمن کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا۔ شام کے وقت اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قابض بزدل فوج نے مکان کو آگ لگائی اور بعدازاں بارود لگا کر اڑا دیا۔ جس سے دو مجاہد اللہ کی جنت کے مہمان بن گئے۔(ان شآءاللہ)
ذرائع سے آمدہ اطلاعات کے مطابق اس جھڑپ میں دو آفیسرز سمیت 12 اہلکار جہنم واصل ہوئے اور کئی درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جن کو جائے معرکہ سے ہیلی کے ذریعے اٹھایا جاتا رہا۔
اس جھڑپ میں  جام شہادت نوش کرنے والوں میں ایک
جیش محمد کے امیر مولانا مسعود اظہر کے بھتیجے اور جیش محمد کے مایہ ناز کمانڈر عثمان ابراہیم ہیں. جو عرصہ دراز سے کشمیر میں برسر پیکار تھے سنائپر کاروائیوں کے ہیرو سمجھے جاتے تھے. اپنی متعدد کاروائیوں میں درجنوں قابض فوجیوں کو واصل جہنم کر چکے تھے. ان سنائپر کاروائیوں کی دشمن پر ایسی دھاک بیٹھائی کہ بھارتی آرمی چیف کی بھی چیخیں نکال دیں
جام شہادت نوش کرنے والے دوسرے مجاہد شوکت احمد چند ماہ قبل شہید ہونے والے آری پل ترال کے اشفاق احمد شہید کے چھوٹے بھائی تھے. جہاد کشمیر میں ان کے گھرانے کی لازوال قربانیاں اہل کشمیر کے لئے قابل رشک ہیں۔
مقبوضہ کشمیر ترال معرکے میں قابض بھارتی فورسز کا جیش محمدؐ کے عثمان اور شوکت احمد کو شہید کرنے کا اور عثمان بھائی سے جو جیش محمدؐ کے کمانڈر مسعود اظہر کے بھتیجے ہیں سنائیپر گن اور گرنیڈ لانچر لگی رائفلز برآمد کرنے دعوہ
اطلاعات کے مطابق سرچ آپریشن جاری ہے

مزید تفصیلات کا انتظار

ماؤنواز آزادی پسندوں کے حملے میں 2 بھارتی سکیورٹی اہلکار اور 1 میڈیا ورکر ہلاک

ماؤنواز آزادی پسندوں کے حملے میں 2 بھارتی سکیورٹی اہلکار اور 1 میڈیا ورکر ہلاک 


اطلاعات کے مطابق شورش زدہ ریاست چھتیس گڑھ میں آزادی پسند ماؤنواز جنگجوؤں کے حملے میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے 2 اہلکار اور نیوز چینل "دوردرشن ٹی وی" کا کیمرہ مین ہلاک ہو گیا ۔ جب کہ اس حملے میں 2 سکیورٹی اہلکار شدید زخمی بھی ہوئے ہیں ۔
ہلاک سکیورٹی اہلکاروں میں 1 سب انسپکٹر اور 1 اسٹنٹ کانسٹیبل بتایا جا رہا ہے ۔ چھتیس گڑھ میں آزادی پسندوں کے حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے ۔ اس سے پہلے ایک حملے میں CRPF کے 5 اہلکار ہلاک اور 1 شدید زخمی ہوا تھا ۔ پرسوں رات BJP کا مقامی لیڈر ایک حملے میں شدید زخمی ہوگیا تھا۔