Friday, January 17, 2020

ABROGATION OF ART 370 'HISTORIC STEP': ARMY CHIEF

NEW DELHI, Jan 15: Army chief Gen M M Naravane on Wednesday hailed the abrogation of provisions of Article 370 as a "historic step" and said the move has disrupted the proxy war by the "western neighbour".
The armed forces have "zero tolerance against terrorism", he said at the 72nd Army Day function in the Cariappa Parade Ground in Delhi.
"We have many options to counter those who promote terrorism and we will not hesitate to use them," he said.
On August 5 last year, the Centre abrogated provisions of Article 370 that gave special powers to Jammu and Kashmir and bifurcated the state into two union territories.
"Abrogation of Article 370 is a historic step. It will prove to be important in integrating Jammu and Kashmir in the national mainstream. This decision has disrupted the plans of our western neighbour and its proxies," he said in his address at the 72nd Army Day function in the Cariappa Parade Ground in Delhi.
Gen Naravane said the country had to face some security challenges last year.
"Not only it countered proxy war but other situations. Whether it is LoC (Line of Control) or LAC (Line of Actual Control), we have ensured security with activeness and strength," he said, adding the situation at northern borders (China border) is relatively peaceful.
The Army chief said the situation along the LoC is linked with situation in Jammu and Kashmir.
"Today, we remember those who have made ultimate sacrifice for the country. It will keep inspiring the coming generations," he said.
General Naravane also conferred medals to the jawans at the Parade ground in Delhi Cantonment area.
Earlier in the day, Chief of Defence Staff (CDS) General Bipin Rawat, Narawane, Chief of the Air Staff Air Chief Marshal R.K.S. Bhadauria and Navy Chief Admiral Karambir Singh paid tribute at the National War Memorial.
President Ram Nath Kovind, Prime Minister Narendra Modi, Defence Minister Rajnath Singh extended greetings on the occasion of the Army Day.

‘India employing all measures to impose its might policies in IOK’

Srinagar, January 17 (KMS): In occupied Kashmir, the Jammu and Kashmir Peoples League (JKPL) has said that all oppressive measures are being employed by India to create an environment of fear to impose its repressive policies on the people of the territory.
The JKPL leader, Nisar Ahmed, addressing a public meeting in Tral area of Pulwama district, today, said that the people of Kashmir had been demanding their right to self-determination for the past over seven decades promised to them by the Indian leaders at Srinagar’s historic Lal Chowk, in the Indian Parliament and at the United Nations.
He urged the people of the occupied territory to observe complete shutdown on 26th January, the Indian Republic Day, to mark the day as Black Day and remind the world that India’s continued denial of right to self-determination to the Kashmiris was contrary to its claim of being a democratic republic.
Meanwhile, delegations of the Jammu and Kashmir Youth Forum and Jammu and Kashmir Young Men’s League visited the families of the youth recently martyrs by Indian troops in Badgam and Pulwama districts and expressed solidarity with them.
Members of the delegations strongly denounced the brute tactics being used by Indian forces to muzzle the voice of the people of Kashmir. They also demanded implementation of the UN resolutions for permanent settlement of the lingering Kashmir dispute.

Monday, April 1, 2019

کشمیرکی پکار


پلوامہ حملے کے بعد مقبوضہ ریاست میں ہندوستانی قابض افواج سے عسکری محاذ پر نبردآزما کشمیری تنظیمات کے مشترکہ فورم متحدہ جہاد کونسل جموں کشمیر کے چیئرمین اور امیر حزب الجماہدین سید صلاح الدین احمد نے دنیا سے بڑا مطالبہ کردیا

x

14 فروری مقبوضہ جموں کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک کشمیری نوجوان عادل احمد ڈار کے بھارتی قابض افواج پر خودکش حملے کے بعد بھارتی افواج سے برسرپیکار کشمیری مجاہدین تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل جموں کشمیر کے چیئرمین اور امیر حزب المجاہدین سید صلاح الدین احمد نے پہلی بار سوشل میڈیاء پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں سید صلاح الدین کا کہناتھا کے 14 فروری کو ایک مقامی  کشمیری نوجوان نے فدائی حملہ کرکے پچاس بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا، اس مجاہد نے عسکری کاروائی میں جو مواد استعمال کیا وہ بھی مقامی طور تیار کیا گیا تھا، یہ ساری کاروائی مقامی کاروائی تھی، بد قسمتی سے مودی سرکاد نے حسب عادت اس کاروائی کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا۔ بجائے اس کے کے پاکستانی ارباب اقتدار ایک جارحانہ اور جاندار مؤقف اختیار کرتے اود دنیا پر یہ واضع کرتے کہ یہ کاروائی مقامی کشمیری نوجوان نے کی ہے اس کا بنیادی سبب بھارتی مظالم اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی ہے  اور یہ کاروائی عالمی طاقتوں کیلیئے چشم کشاء ہونی چاہئیے جب تک وہ خاموش رہیں گے اور بھارتی مظالم جاری رہیں گے تو کشمیر کا ہر بوڑھا بچہ فدائی بننے پر مجبور ہے اس کے برعکس پاکستان کے ارباب اقتدار نے جو معزرت خواہانہ اور مبہم  دفاعی پوزیشن اختیار کی اس کی وجہ سے تحریک آزادی کی پیش رفت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔ ہم یہ واضع کرنا چاہتے ہیں کے مملکت خداداد پاکستان مسئلہ کشمیر کا بنیادی فریق ہے قانونی اور اخلاقی لحاظ سےمملکت خداداد اس بات کی مکلف ہے کے وہ کشمیر میں برسرپیکار نہتے کشمیریوں کی ٹھوس، اخلاقی اور سفارتی مدد کرے۔ اور ہر قسم کی قابل دید مدد کرے، ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کے دہشت گردی کے نام پر کشمیری کاز کی حمایت کرنے والوں پر کریک ڈاؤن نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ تحریک آزادئ کشمیر عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ تحریک ہے ارباب اقتدار پاکستان نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے وقت اس بات کو ملحوظ نظر رکھیں کہ رواں جدوجہد آزادئ کشمیر سوا پانچ لاکھ فرزندان وطن کے خون سے سینچی ہوئی تحریک ہے اس کو دہشتگردی سے نہیں جوڑا نہیں جاسکتا۔ اور یہ بات بھی ہم واضع کرنا چاہتے ہیں کہ جب تک نہتے کشمیریوں کو اپنا بنیادی حق حق خودارادیت نہیں ملتا تب تک یہ جدوجہد آزادی جنت ارضی کے چپے چپے پر جاری رہیں گی۔ عالمی برادری بھی اخلاقاً اور عالمی قوانین کے تحت اس بات کی پابند ہے کے وہ ہندوستان کو اس بات پر مجبور کریں کے وہ کشمیریوں کے بنیادی حق کو تسلیم کرے اور کشمیریوں کوآپنے مقدر کا فیصلہ کرنے کا موقع دے پاکستان کے اربابِ اقتدار سے ہماری گزارش ہے کہ وہ معزرت خواہانہ اور دفاعی طرز عمل چھوڑ کر ایک جاندار اور ایک جارحانہ مؤقف کو اختیار کرکے عالمی سطح پر بھرپور سفارتی مہم جوئی کے زریعے بھارت کے مظالم کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی فقیدالمثال قربانیوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کرے۔ ہم اس موقع پر یہ بھی عرض کرنا چاہتے ہیں کے خدانخواستہ اگر پاکستان نے تحریک آزادئ کشمیر کے تئیں اپنا فریضہ انجام نہیں دیا بلکے عالمی دباؤ میں آکر نہتے کشمیریوں کی قربانیوں پر سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی تویہ ایک بہت بڑا تاریخی المیہ ہوگا اور خود پاکستان کی قومی سلامتی کے جو تقاضے ہیں وہ بھی کمپرومائز ہوں گے ہم پرامید ہیں کے عالمی برادری نہتے کشمیریوں کے ساتھ آپنا وعدہ پورا کرے گی۔ اور بیس کیمپ کے ارباب اقتدار مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق ہونے کی حیثیت سے آپنی زمہ داریوں کو پورا کرنے کی بھرپورکوشش کریں گے وماعلیناالالبلاغ،

Wednesday, November 14, 2018

بھارتی فوج کشمیری نوجوانوں کو مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونے سے روکنا چاہتی ہے: بھارتی آرمی چیف بپن راوت

مقبوضہ کشمیر قابض بھارتی فوج کے سربراہ بپن راوت نے سوموار کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کی پالیسی کشمیر کے اندر مجاہدین کا خاتمہ کرنا ہے اور قابض فوج اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کررہی ہے کہ کشمیری نوجوان مجاہدین کی طرف راغب نہ ہوں۔ بپن راوت نے کہا کہ جموں کشمیر میں کنٹرول لائن سے دراندازی کا سلسلہ جاری ہے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے بپن راوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا''حکومت کی واضح پالیسی ہے کہ جنگجوئوں کو تشدد بھڑکانے کا موقع نہ دیا جائے۔ایسا کرنے والے کو ختم کیا جائے گا''۔بپن راوت پٹھانکوٹ میں ایک تقریب کے بعد نامہ نگاروں سے بات کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا''کشمیر میں  ہماری ساری توجہ مجاہدین پر مرکوز ہے۔قابض فوج کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ نوجوان مجاہدین  کی صف میں شامل نہ ہوں''۔بپن راوت نے کہا کہ قابض فوج نوجوانوں کو موقع فراہم کرتے ہوئے اُنہیں سرنڈر کرانے کی کوشش کرتی ہے اور اس کے لئے متعلقہ گھر والوں کی بھی مدد لی جاتی ہے تانکہ وہ نوجوانوں کو سرنڈر کے لئے راضی کریں۔ انہوں نے کہا''اس کے باوجود اگر وہ مجاہدین تشدد ترک نہیں کرتے تو پھر اُنہیں ختم کرنے کے بغیر کوئی آپشن نہیں رہتا ہے''۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا بھارت پاکستان کی طرف بدلے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کی وجہ سے کئی ہلاکتیں ہوئی ہیں، فوجی سربراہ نے کہا کہ پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ''انہوں نے کہا''دیکھئیے ہمیں پالیسیاں تبدیل کرنی پڑتی ہیں۔ہم کچھ مختلف کررہے ہیں۔ہم غالب رہنے کے لئے پالیسیوں کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ اس کو محض بدلے کی پالیسی کی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئیے ''۔ بپن راوت نے کہا کہ قابض بھارتی فوج جو کچھ کنٹرول لائن پر کررہی ہے اُس کو پبلک ڈومین میں نہیں لایا جاتا اور وہ پاکستانی افواج سے زیادہ کرتی ہے۔ ''ہم شور مچانا نہیں چاہتے۔ جب بھی وہ(پاکستانی افواج) کچھ کرتی ہیں تو اُس کا مُنہ توڑ جواب دیا جاتا ہے۔جب بھی وہاں سے کچھ کیا جاتا ہے وہ رد عمل ہوتا ہے۔ وہ آغاز نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہم اُن سے کئی گنا مضبوط ہیں ''۔ انہوں نے مزید کہا'' کشمیری ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ ہمیں اُن کی رکھوالی کرنی ہے۔جموں، کشمیر اور لداخ کے خطے ملک کا حصہ ہیں اور وہاں تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی''۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس بھی سنائپر ہیں اور بھارت کے پاس بھی۔ہماری کوشش ہے کہ اُنہیں کوئی موقع نہ دیں۔مذاکرات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بپن راوت نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی لوگوں کے ساتھ بات چیت کا آغاز کر رکھا ہے۔

Thursday, November 8, 2018

IOK authorities start recruitment for border battalions

Jammu, November 09 (KMS): In occupied Kashmir, the authorities have started the process of recruitment for 2014 posts in border battalions.

The Home Department of the occupied territory in consultation with Police Head Quarters (PHQ) formulated a proposal to raise two border battalions of police which was forwarded to the Indian Ministry of Home Affairs.

As per an order of the authorities, the recruitment for the posts should be strictly from the youth living in the areas of 0-10 km from Working Boundary (WB), Line of Control (LoC), Actual Ground Position Line (AGPL) and Line of Actual Control (LAC) and should also be equally divided amongst the 10 border districts of occupied Kashmir.

The criteria may be relaxed for Leh and Kargil if sufficient youth are not available from 0-10 km of LoC/AGPL/LAC.